بندوں کو گنا کرتے ہیں

باغبانپورہ تھانے کی حدود سے ایک بچہ پپو اغوا ہوا بعد میں اس کی لاش ریلوے کے تالاب سے ملی۔ سال تھا ۱۹۸۱ اور دور تھا ضیاء الحق کے مارشل لاء کا۔ قاتل گرفتار ہوئے عدالت سے سر عام سزائے موت کا حکم ہوا۔ ٹکٹکی بیگم پورہ سبزی منڈی کی جگہ لگی چاروں قاتل لائے گئے پورے لاھور نے دیکھا پھانسی کیا ہوتی ہے۔ سارا دن لاشیں جھولتی رہیں کیونکہ حکم تھا غروب آفتاب کے بعد لعنتیوں کو اتارا جائے۔ ایک عرصے تک کوئی بچہ پھر اغوا نہیں ہوا اور پھر جمہوریت بحال ہوگئی۔

سابق صدر ضیاء کے عہد میں قتل کی وارداتیں بہت کم ہوئیں، کیونکہ قاتل کی مصلوب میت سال کے اندر اندر اس کے گھر پہنچتی تھی۔ ضلع خوشاب کے ایک بڑے بااثر جاگیردار کو سزائے موت سنائی گئی ۔ایک مولانا اور پیر صاحب نے اس کی سفارش کی تو جنرل صاحب نے دونوں بزرگوں سے فرمائش کی کہ وہ دونوں لکھ دیں ملزم بے گناہ ہے تو اسے رہا کردونگا۔ لیکن کوئی اثر رسوخ کام نہ آیااور پھر جمہوریت بحال ہوگئی۔

گورنر امیر محمد خان کے دور میں ٹرانسپورٹروں نے ہڑتال کر دی تو گورنر صاحب نے حکم دیا کہ جتنی بھی سرکاری گاڑیاں بشمول ٹریکٹر ٹرالی ہیں سڑکوں پر لائی جائیں اور لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچایا جائے۔ دوسرے ہی دن ٹرانسپورٹروں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا مائی باپ غلطی ہوگئی معاف کر دیں۔ اور پھر جمہوریت بحال ہوگئی جی ٹی ایس اپنے ہزاروں ملازمین سمیت صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔

میں مارشل لاء اور آمریت کی حمایت نہیں کر رہا صرف بحالی جمہوریت کا بتا رہا ہوں۔ جس کا مطلب سمجھنے کے لئے بھی ہمیں مزید پانچ سو برس کا عرصہ درکار ہے۔

مجذوب ، کوچوان اور لَک تَرُٹّے

واقعہ یہ ان دنوں کا ہے جب کیمبل پور اٹک نہیں ہوا تھا۔ بارشیں جھڑیوں کی صورت برستی تھیں بٹنگ بازار میں بکنے آتے، کھاریوں والی ماسیاں انڈے چوزے شہد اور دیسی گھی لایا کرتی تھیں جب مسجدوں میں دئے اور کوزے تھے پر تالے نہیں تھے نہ جوتیاں اٹھانے والے سالے ہی تھے اور ہاں موٹر سائیکلوں کا عذاب بھی نازل نہیں ہوا تھا، جُوج ماجُوج کا یہ ہراول دستہ تحت الثری سے برآمد نہیں ہوا تھا۔شہر میں جس مقام پر ایک ریستوران ریگالیہ کے نام کا ہوا کرتا تھا اس سے تھوڑا آگے ایک مجذوب چلا جا رہا ہوتا ہے چوک فوارہ کی طرف سے ایک تانگہ پیچھے سے آ تا ہے کوچوان بار بار بچ بچ کہتا ہے لیکن تانگہ پھر بھی مجذوب سے ٹکرا جاتا ہے کوچوان اتر کر غصے سے پوچھتا ہے اندھا ہے یا بہرہ نہ تجھے سڑک نظر آتی ہے نہ ہٹو بچو کی آواز سنتا ہے۔ مجذوب ایکدم جلال میں آجاتا ہے کوچوان کو کان سے پکڑ کر اس کا منہ چوک فوارہ کی طرف کر کے کہتا ہے اب دیکھ اس اندھے کی آنکھوں سے، کوچوان کو چوک فوارہ تک کُل گدھے، گیدڑ، لدھڑ ( جسے مقامی زبان میں لَک تَرُٹَّا کہتے ہیں) اور خال خال انسان نظر آتے ہیں۔ آج بھی مجذوب کو چند انسان ( جنہیں مقامی زبان میں بندے نے پُتُرکہتے ہیں ) نظر آجاتے ہیں پیدل چلتےہوئے

ایران

ایران ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی طرف رواں دواں ۔ کیسی تبدیلی ، کب آئیگی ، کیا کیا ہوگا ، ایک بات طے ہے کہ تبدیلی کا سفر شروع ہو چکا ۔ ممکن ہے ، موجودہ ھلچل کو ، حکومت وقت دبانے میں کامیاب ہو جائے لیکن یہ مرحلہ عارضی ہوگا اور اس کی راکھ میں دبی ہوئی چنگاریاں ، ایک بار پھر کسی بھی وقت شعلوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں ۔

ہم نے جب ہوش سنبھالا تو ایران میں پہلوی خاندان برسراقتدار تھا ۔ ہزایمپیریل ھائنیس محمد رضا شاہ پہلوی ، حکمران تو ایرانی سلطنت کے تھے مگر ، سیاسی زبان میں انہیں خلیج فارس کا تھانیدار کہا جاتا تھا ، اور اس پورے علاقے میں امریکی مفادات کے تحفظ کا ذمہ دار ۔

ایران مسلم معاشرہ ہوتے ہوئے بھی مغربی تہذیب کا پرتو اور ایک آذاد خیال ریاست دکھائی دیتا تھا ۔ ہمارے ایک بزرگ دوست اس زمانے میں وہاں مقیم رہے ، ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان میں سرکس والے شہر شہر گھوم کر شو کرتے ہیں ، ایران میں اسی طرح قمار بازی اور عصمت فروشی کے میلے منعقد ہوتے ہیں اور اس کاروبار سے جڑے لوگ شہر شہر خیمیں لگاکر شائقین کے ذوق کا سامان پیدا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہ تھا شاہ کا زمانہ ، پھر اچانک خبر آئی کہ ایک درویش جو فرانس میں مقیم ہے ، اس کی ، کیسٹوں کے ذریعے اسمگل ہوکر آنیوالی تقریروں نے اثر دکھانا شروع کردیا ہے اور لوگ اسے بڑے شوق سے سنتے ہیں ۔ مزے کی بات یہ کہ ایران سے باھر کی ایک بہت بڑی دنیاء اس درویش کے نام تک سے آشناء نہ تھی ، مگر اس کی تحریک نے ایرانی معاشرے میں ھلچل مچادی اور دیکھتے ہی دیکھتے ، شاہ اور اس کی حکومت کے خلاف مظاھروں اور احتجاج کا ایک طوفان امڈ آیا ۔ ناچار شاہ کو ایران چھوڑنا پڑا ۔ مجھے شاہ کی روانگی اور آئت اللہ خمینی کی آمد کا منظر ابھی تک یاد ہے ۔

اب ایران میں اسلامی انقلاب آچکا تھا ، اور ہر ایرانی کی زبان پہ مرگ بر امریکہ کا نعرہ تھا ، جو ایک مدت تک بہ آواز بلند گونجتا رہا ، اسی اثناء میں شط العرب کے مسئلے پر ایران ، عراق جنگ چھڑ گئی اور مرگ بر امریکہ کے ساتھ ساتھ ” جنگ جنگ تا پیروزی ” کا نیا نعرہ بھی متعارف کرادیا گیا ، یعنی فتح تک جنگ جاری رہے گی ۔

پیروزی ( فتح ) کا تو علم نہیں کہ وہ پاسداران انقلاب کے ھاتھ آئی یا نہیں لیکن آٹھ برس تک لڑی جانیوالی اس طویل اور تھکا دینے والی جنگ نے لاکھوں عورتوں کو بیوہ اور انگنت بچوں کو یتیم کردینے کے ساتھ ساتھ ، ایرانی معیشت کا بھی کباڑہ کردیا ۔ ادھر صدام حسین کو اپنے بھائیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور مغربی ممالک کی مدد حاصل تھی لھذا اس جنگ سے عراقی معیشت کو اس درجے کا نقصان نہیں پہنچا جسطرح کہ ایرانی معاشرہ اور معیشت متاثر ہوئے ۔

مرگ بر امریکہ کے نعرے کے جواب میں امریکی پابندیاں عائد کی گئیں جو سالہا سال تک نافذ رہیں اور کئی ایک اب بھی موجود ہیں ۔ ان ہی پابندیوں اور جکڑ بند نے ایرانی معاشرے اور معیشت پہ اثر ڈالا ، جس کا اظھار یا اقرار تو انقلابی حکومت نے کبھی نہیں کیا اور مشکل ترین حالات میں بھی سفر جاری رکھا مگر تا بہ کے ؟ موجودہ ھنگامے ، بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافے ہی کی بنیاد پہ شروع ہوئے ہیں ، یہ کیا رخ اختیار کرتے ہیں ، اس کا جواب وقت دے گا ، ہم کوئی پیشین گوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں البتہ جیسا کہ مضمون کی ابتداء میں عرض کیا کہ تبدیلی کی خواھش ، احتجاج اور ھنگاموں کی شکل میں نمودار ہوچکی ہے ۔

میرے ناقص خیال سے مرحوم آئت اللہ خمینی ، اپنے اعلی کردار اور محنت سے انقلاب برپا کرنے میں بیشک کامیاب ہوئے مگر اس کے مکمل نفاذ سے پہلے ، بلکہ اس کی زچگی کے ایام میں ہی عراق کے ساتھ ایک بے معنی جنگ میں الجھ گئے ، مرگ بر امریکہ کو قومی نعرے کی شکل دینے سے امریکہ کو ، جو پہلے ہی شاہ کی رخصتی پہ ناراض تھا ، اسقدر برانگیختہ کیا کہ اس نے بھی جوابا اس انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ، بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ایرانی انقلاب کی مخالفت کی ایک وجہ اس کی ایکسپورٹ یعنی برآمد بھی ہے ۔ اللہ کے نیک بندو ، پہلے اپنے گھر میں اسے پورے طور پہ نافذ کرو ، اپنے معاشی مسائل حل کرو، دنیاء کو جب اس کے اثرات نظر آئینگے تو وہ خود بہ خود اس کی طرف لپکیں گے ۔ اسلام کے ابتدائی دور میں مرگ بر قیصر وکسری کا نعرہ نہیں لگایا گیا بلکہ ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست قائم کر کے دنیاء کو یقین دلایا گیا کہ اسلام ہی حقیقی فلاحی نظام زندگی کا ضامن ہے ، غیر مسلم شاھان وقت اور ریاستوں کو برا بھلا کہنے کی بجائے ، قاصد بھیج کر اسلام کا سچا پیغام پہنچایا گیا ۔ کسی غزوہ میں جنگ جنگ تا پیروزی کا نعرہ سننے میں نہیں آیا ۔ غیر مسلموں سے بھی امن معائدے ہوئے ۔ المختصر ، ایرانی قوم نے جس انقلاب کی خاطر قربانیاں دیں ، ایسا محسوس ہوتا ہے ، اس کے ثمرات ان تک نہیں پہنچے اور اب بار دگر انہیں سڑکوں پہ نکلنا پڑ رہا ہے ۔ ہم دعاء گو ہیں کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور یہ خطہ امن کا گہوارہ ثابت ہو ۔

میرے خیال سے

امریکی صدر جناب ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ کہ امریکی سفارتخانہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سے یروشلم ( القدس الشریف ) منتقل کرکے ، نہ صرف یہ کہ اسرائیل کو خوش کیا جائے بلکہ مسلمانوں کو مشتعل کرکے عالم اسلام میں افراتفری کا ایک ایسا ماحول پیدا کردیا جائے کہ مسلمان امریکہ کی حمائت اور مخالفت کے نام پہ آپس میں دست و گریبان ہوجائیں ۔ دوئمش یہ کہ مسلمانوں کو چونکہ قبلہ اول سے بے پناہ عقیدت ہے اور وہ اس سلسلے میں نہائت جذباتی بھی ہیں ، ان کے جذبات بھڑکا کر مسلم ممالک میں نظام زندگی ٹھپ کرنے کے ساتھ ساتھ توڑ پھوڑ بھی کرائی جائے تاکہ ان کی کمزور معیشتیں سانس لینا بھی چھوڑ دیں ۔

یہ فیصلہ صرف صدر ٹرمپ کا نہیں بلکہ امریکی تھنک ٹینکس کی ایک لمبی سوچ بچار اور ریاضت کا نتیجہ ہے ۔ میرے خیال سے یہ ایک پھندا ہے ، اور مسلمان دانشورں اور زعماء کے لئے امتحان کی گھڑی ۔ اگر عالم اسلام نے دانش سے کام نہ لیا تو ہمیں بہت بڑا نقصان ہوگا ۔ اس فیصلے کے کثیرالجہتی مقاصد ہیں ، یہ کوئی سادہ سا اور حماقت میں لیا ہوا فیصلہ نہیں بلکہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر اعلان کیا گیا ۔ امریکہ کسی کا دوست یا دشمن نہیں ، اسے دو کام کرنے ہیں ، چودھراھٹ برقرار رہے ، دنیاء بھر میں افرا تفری پیدا کرکے اور مختلف قوموں کو لڑا کر اپنا اسلحہ فروخت کیا جائے ۔ اسرائیل کو اس نے مسلمانوں کے لئے ایک مہرے کے طور پہ رکھا ہوا ہے ، کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسرائیل سے اسے پیار ہے ، ایسا بالکل نہیں ، عیسائیوں اور یہودیوں کی آپسی نفرت حضرت عیسی علیہ السلام کے دعوی نبوت سے ہی شروع ہوگئی تھی ، اسرائیل کو صرف اور صرف مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے اور اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے اقدام سے اس بات کا خدشہ ہے کہ عالم اسلام نظریاتی طور پر کئی ٹکڑوں میں نہ بٹ جائے اور جذباتی مسلمان سڑکوں پہ نکل کر اپنی ہی پراپرٹی تباہ نہ کردیں ، جیسا کہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بپھرے ہوئے لوگ امریکہ حمائیتی حکومتوں کو مستعفی ہونے پہ مجبور کردیں اور اسطرح اسلامی دنیاء بیک وقت کئی بحرانوں کا شکار ہوجائے ۔

ان خدشات کی روشنی میں میری رائے یہ ہے کہ ہمیں اس موقع پہ جذبات سے نہیں بلکہ تدبر سے کام لینا ہوگا ۔

آپ ﷺ آتے ہیں پیر سید نصیر الدین نصیرؒ

راستے صاف بتاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

لوگ محفل کو سجاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

اہلِ دل، گیت یہ گاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

آنکھیں رہ رہ کے اُٹھاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

اُن کی آمد کے پیامی ہیں صبا کے جھونکے

پھول شاخوں کو ہلاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

اُن کے جلوں سے نکھرنے لگی دل کی رونق

میری تقدیر جگاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

کہکشاں ، راہ گزر ، چاند ، ستارے ، ذرّے

سب چمک کر یہ دکھاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

مرحبا صلِ علیٰ کی ہیں صدائیں لب پر

ہم تو صدقے ہوئے جاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

اہلِ ایماں کے لبوں پر ہے درود و سلام

یومِ میلاد مناتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

دل کو جلؤوں کی طلب، آنکھ کو طیبہ کی لگن

دیکھئے مجھ کو بُلاتے ہیں کہ ” آپ آتے ہیں”

اپنے شاہکار پہ خلاّقِ دو عالم کو ہے ناز

انبیاء جُھومتے جاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

چاند تاروں میں نصیر آج بڑی ہل چل ہے

یہی آثار بتاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

اکبر کا اٹک

کہتے ہیں اٹک کا یہ نام اکبر اعظم نے رکھاتھا۔ نام رکھنے کا اسے بڑا شوق تھا۔ کسی جگہ کا خوبصورت منظر دیکھ کر اس کے منہ سے بے ساختہ ” واہ ” نکلی ، اس مقام کا نام واہ رکھ دیا گیا۔ پھر چلتے چلتے اس کا قافلہ دریائے سندھ کے کنارے پہنچ کر اٹک گیا، وہ جگہ اٹک کہلائی، پھر قافلہ خیر سے پار اتر گیا ، وہ مقام خیر آباد کہلایا۔ اس کی ایک اور کہانی بھی ہے۔ اکبر نے اپنے پیش رو شیر شاہ سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ بہت سے کام جو اکبر نے کئے ان کی بنیاد شیر شاہ رکھ گیا تھا۔شیر شاہ کی مملکت بہار سے پنجاب تک پھیل گئی تھی۔ اس کے ایک سرے پر بہار میں قلعہ رہتاس تھا۔ اس کے دوسرے سرے پر پنجاب میں گھکڑوں کی سر زمین پر شیر شاہ نے دوسرا قلعہ بنوایا تو اس کا نام بھی رہتاس رکھا۔ بالکل اسی طرح اکبر کی مملکت کے ایک کنارے پر کٹک تھا، دوسرے کنارے کا نام اس نے اٹک رکھا۔ یہاں کشتیاں چلانے اور دریا پار کرانے کے لئے اکبر بنارس سے ملاح لایا اور اس خیال سے کہ وہ اب اسی جگہ کو اپنا وطن سمجھیں، اس چھوٹے سے شہر کو اٹک بنارس کا نام دے دیا گیا۔ ملاحوں کی گذر بسر کے لئے جاگیر اور رہنے کے لئے شہر میں ایک محلہ دیا گیا جو ملاحی ٹولہ کہلاتا ہے اور جہاں پرانے ملاحوں کی آل اولاد اب تک آباد ہے۔ یہ وہ سطور ہیں جونامور براڈ کاسٹر، محقق، مصنف اور سفر نامہ نگار جناب رضا علی عابدی صاحب نے اپنی کتاب جرنیلی سڑک میں لکھی ہیں۔ جاگیر کے حوالے سے انہوں نے کچھ ذکر نہیں کیا کہ کہاں اور کس نام سے تھی۔

بریانی

اپنی خاص خوشبو اور ذا‏ئقے کے لیے معروف بریانی برصغیر کے خاص پکوانوں میں سے ایک ہے جو مختلف علاقوں میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔

چار سو  برس قدیم انڈيا کا شہر حیدر آباد صرف اپنے چار مینار کے لیے ہی نہیں بلکہ حیدر آبادی بریانی کے لیے بھی کافی مشہور ہے۔
بریانی اب ایک مقامی پکوان ہے لیکن اس کے باوجود لوگ پوچھتے ہیں کہ ’یہ کہاں سے ہندوستان آئی اور کب آئی؟
دھیمی آنچ پر کافی دیر تک مصالحے میں لپیٹے ہوئے گوشت کو اس کے اپنے ہی رس میں پکنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس میں چاول کی تہہ ہوتی ہیں اور خوشبودار مسالے بھی ہوتے ہیں
کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ اس کا جنم ہندوستان میں ہوا۔ ان کا دعوی ہے کہ وسطی ایشیا کے پلاؤ کو یہاں کے لوگوں نے بریانی کی شکل دی۔ لیکن اس پر یقین کرنا ذرا مشکل امر ہے۔
پلاؤ اور بریانی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان کا ذائقہ بھی جدا جدا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بریانی ایران سے آئی ہے۔
بریانی نام اصل میں فارسی لفظ ’برنج بريان‘ سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب ہے بھنے ہوئے چاول۔
ایران میں بریانی کو دیگ یعنی دم کیاجاتا ہے یعنی اسے دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔
چار سو برس قدیم انڈيا کا شہر حیدر آباد صرف اپنے چارمینار کے لیے ہی نہیں بلکہ حیدر آبادی بریانی کے لیے بھی کافی مشہور ہے
دھیمی آنچ پر کافی دیر تک مصالحے میں لپیٹے ہوئے گوشت کو اس کے اپنے ہی رس میں پکنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس میں چاول کی تہہ ہوتی ہیں اور خوشبودار مسالے بھی ہوتے ہیں۔
بھارت میں اسلامی کھانوں کی ماہر سلمیٰ حسین بتاتی ہیں کہ دور حاضر کے ایران میں سڑکوں پر فروخت ہونے والی بریانی میں اب چاول کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ اب اس کی جگہ پر گوشت کے ٹکڑوں کو رومالي روٹی میں لپیٹ کر پکایا جانے لگا ہے۔
لیکن یہ ڈش دراصل ہندوستان میں پروان چڑھی جہاں اس کی رنگ برنگی اور متنوع تاریخ ہے۔

بریانی کی ڈش دراصل ہندوستان میں پروان چڑھی جہاں اس کی رنگ برنگی اور متنوع تاریخ ہے
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بریانی پہلی بار ہندوستان میں مغلوں کے ساتھ آئی۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ زائرین، فوجی خاندانوں اور بعض رہنماؤں کے ساتھ جنوبی ہندوستان آئی۔ بعد میں یہ ڈش جن مختلف مقامات پر پہنچی اسی مناسبت سے مقامی ذائقے اس میں مربوط ہوتے گئے۔
کیرالہ کو ہی لے لیجیے، یہاں مالابار یا موپلا بریانی ملتی ہے۔ کئی بار تو اس میں گوشت یا چکن کی جگہ مچھلی یا جھینگوں کا استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مصالحے تیز ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں پڑنے والے مواد سے حیدرآبادی خوشبو ضرور آتی ہے۔
انڈین ریاست مغربی بنگال میں ملنے والی بریانی، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ملنے والی بریانی کے ذائقے سے ملتی جلتی ہے۔ یہ بھی بہت مقبول ہے۔

یہ خیال غلط نہیں ہوگا کہ کولکاتہ شہر میں بریانی سمندر کے راستے سے آئی جہاں کبھی نوابوں کی حکومت ہوا کرتی تھی
یہ خیال غلط نہیں ہوگا کہ کولکاتہ شہر میں بریانی سمندر کے راستے سے آئی جہاں کبھی نوابوں کی حکومت ہوا کرتی تھی۔
وہیں بھوپال میں بریانی شاید دراني افغانوں کے ساتھ آئی، جو کبھی احمد شاہ ابدالی کی فوج کا حصہ رہے تھے۔ بھوپال کی بریانی کافی دم دار ہوتی ہے۔ اس کی انوکھی خوشبو بہت پر کشش ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ آج کل مرادآبادی بریانی اچانک انڈین دارالحکومت دہلی میں کافی فروخت ہونے لگی ہے۔
راجستھانی بریانی کی سب سے بہترین مثال دیگ ہے۔ یہ اجمیر میں خواجہ غریب نواز کی درگاہ کی زیارت کرنے والوں کے لیے خاص طور پر تیار کی جاتی ہے۔

بھوپال میں بریانی شاید دراني افغانوں کے ساتھ آئی، جو کبھی احمد شاہ ابدالی کی فوج کا حصہ رہے تھے۔ بھوپال کی بریانی کافی دم دار ہوتی ہے۔ اس کی انوکھی خوشبو بہت پر کشش ہوتی ہے
لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ انڈيا میں لوگ اب بھی بریانی کے حقیقی ذائقے سے بے خبر ہیں۔ زیادہ تر جگہوں پر ملنے والی بریانی کو صرف ’کڑھائی بریانی‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہاں لمبے چاول تو ہوتے ہیں اور زرد رنگ بھی ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی بریانی سے یہ بلکل مختلف ہے۔
بڑے ہوٹلوں یا اچھے کھانے کے ریستوران میں بھی اسے روایتی طریقے سے نہیں پکایا جاتا ہے۔
ہم کتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ ایران ہمارے ملک کے کتنے قریب ہے اور صرف فارسی زبان ہی دونوں ممالک کی مشترکہ وراثت نہیں ہے۔

بی بی سی اردو سے

روھنگیا پلان اصل کہانی کچھ اور ھے

تحقیق و تحریر

سیدزادہ سخاوت بخاری 

موجودہ میانمار اور سابقہ برما میں صدیوں سے آباد روھنگیا مسلمانوں پہ ظلم و ستم ، ان کی نسل کشی اور ھجرت کی کہانیاں آجکل دنیاء بھر کے میڈیا کا ایک اھم موضوع ہے ۔ پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں اس بربریت کے خلاف احتجاجی مظاھرے کئے جارہے ہیں اور موقع پرست تنظیموں نے چندہ بھی جمع کرنا شروع کردیا ہے ۔ بہ ظاھر ہم سب کو یہی نظر آتا ہے کہ بے یار و مدد گار مسلمانوں پہ ظلم ہورہا ہے ، ان کی مدد کی جائے ، انہیں پناہ دی جائے ، ان کے لئے آواز اٹھائی جائے وغیرہ وغیرہ ، لیکن اندر کی بات اور کہانی جسے میں نے روھنگیا پلان کا نام دیا ہے ، اکثریت کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ علامہ اقبال نے ستاروں کے بارے میں کہا تھا ،

” ھیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ، ۔ ۔ ۔ دیتے ہیں یہ بازیگر دھوکا کھلا ۔۔۔۔

یعنی آسمان پہ نظر آنیوالے ننھے منے ستارے ویسے ہیں نہیں کہ جیسے ہمیں نظر آتے ہیں ، یہ تو بازی گروں کی طرح ہمیں دھوکا دے رہے ہیں ۔

روھنگیا پلان بھی ایک بازی گری ہے ، ایک دھوکا ہے ، اس کا مقصد وہ نہیں جو دنیاء بالخصوص مسلمانوں کو نظر آرہا ہے ۔ مہاتما بدھ کی تعلیم کا اولین نقطہ امن ہے اور اسی کے حصول کی خاطر کپل وسطو کے اس شھزادے نے آسائیش و آرام کی زندگی چھوڑ کر درویشی اختیار کی تھی ، پھر ایسا کیا ہوا کہ اس کے ماننے والوں کی ایک نگری برماء میں اچانک ابال آیا اور خون کی ہولی کھیلی جانے لگی ، بے گناہ مرد و خواتین اور بچوں تک کو زندہ جلادیا گیا ، ان کی بستیوں کو نذر آتش کیا جانے لگا ، لاکھوں کی تعداد میں یہ لٹے پٹے لوگ اپنا وطن چھوڑنے پہ مجبور ہوئے ، آخر یہ سب کیوں ہورہا ہے ، کیا یہ بدھوں اور مسلمانوں کی لڑائی ہے ، کیا اس کا مقصد غیر برمیوں کو نکال باھر کرنا ہے ، کیا یہ مقامی اور غیر مقامی کی جنگ ہے ، کیا یہ کفر اور اسلام کا معرکہ ہے ، ۔ نہیں بالکل ایسا نہیں ، ان مفروضوں میں کوئی صداقت نہیں ، ان میں سے کوئی بھی اندازہ اور قیاس درست نہیں ، اصل کہانی کچھ اور ہے ، آئیے ہم آپ کو اس ۔ ۔ ۔روھنگیا پلان کے پس پردہ مقاصد سے روشناس کراتے ہیں ۔

اس پلان کو سمجھنے سے پہلے آپ کو دنیاء کے نقشے پہ نظر دوڑانی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ برما کا محل وقوع کیا ہے ، اس کے دور و نزدیک کے پڑوسی کون ہیں ، اس کی جغرافیائی اہمیت کیا ہے ۔ یہ بات جان لینے کے بعد روھنگیا پلان میں چھپے راز آپ خود بخود جان جائینگے ۔ 

عرض ہے کہ برما ، چین کا پڑوسی ملک ہے اور امریکہ بہادر چاھتا یہ ہے کہ روھنگیا پلان کے ذریعے اس ملک کو مذھبی جنگ میں دھکیل کر مسلم شدت پسندوں کے لئے میدان ہموار کیا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر ہی اس نے مسلم اقلیتی فرقے یعنی روھنگیا کو چنا ہے تاکہ ان کی مدد کے نام پہ دنیاء بھر کے شدت پسند اور دھشت گرد یہاں جمع ہوکر ، شام ، عراق اور افغانستان کی طرز پہ کاروائیاں شروع کریں تاکہ یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہو کر اسے مدد کے لئے پکارے یا امریکہ ازخود نوٹس لیکر یہاں آجائے ، بعینہی اسی طرح جیسے کہ افغانستان میں ہوا ۔ ۔ 

قارئین کرام اصل مسئلہ افغانستان یا برما کی مدد کا نہیں بلکہ اس سارے پلان سے مقصود چین کا گھیراو ہے جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ کا واحد اور مضبوط حریف بن کر دنیاء کے نقشے پہ ابھرا ہے اور اب One Belt One Road اقتصادی راھداری کے منصوبے کے ذریعے امریکی تجارتی مفادات کے لئے خطرے کا سائیرن بجا رہا ہے . یاد رہے کاشغر سے گوادر تک اقتصادی راھداری کا منصوبہ جسے ہم CPEC کے نام سے جانتے ہیں ، یہ ون بیلٹ ون روڈ کا ایک جزو ہے ۔ اگر آپ پورے منصوبے پہ نظر دوڑائیں کہ جس کی تکمیل سے چین دنیاء کی تجارت کا محور بن جائیگا تو آپ کو امریکہ کی ناراضگی اور تشویش سمجھ میں آجائیگی ۔ منصوبہ مذکور بالا یعنی OBOR (ون بیلٹ ون روڈ ) ، بری اور بحری راستوں سے ہوتا ہوا تقریبا نصف سے زیادہ دنیاء کو اپنی تجارتی لپیٹ میں لے گا ۔ اس کی زد میں آنیوالے ممالک یہ ہونگے :

چین سے شروع ہوکر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ افغانستان ، البانیہ ، آرمینیا ، آذربائی جان ، بحرین ، بنگلہ دیش ، بیلا روس ، بھوٹان ، بوسنیا ، برونائی ، بلغاریہ ، کروایشیاء ، مصر ، اسٹونیا ، ایتھوپیا ، جورجیا ، ھنگری ، انڈیا ، انڈونیشیا ، عراق ، اسرائیل، اردن ، قازقستان ، کوریا ، کویت ، کرغیزستان ، لبنان ، لیتھیونیا ، میسا ڈونیا ، ملائیشیا ، مالدیپ ، مالدووا، برما ، نیپال ، نیوزی لینڈ ، عمان ، پاکستان ، فلسطین ، فلپائن ، پولینڈ ، قطر ، رومانیہ ، سعودی عرب ، سربیا ، سنگا پور ، سلواکیا ، سلووینیا ، ساوتھ افریقہ ، سری لنکا ، شام ، تاجکستان ، تھائی لینڈ ، ترکی، ترکمانستان ، یو اے ای ، ازبکستان ، ویٹ نام اور یمن ۔

یہ عظیم الشان منصوبہ 2049 تک 8 کھرب امریکی ڈالر خرچ ہونے کے بعد جب مکمل ہوگا تو آدھے سے زیادہ دنیا چین کے تجارتی شکنجے میں جکڑ جائیگی اور اسی کو ناکام بنانے کے لئے امریکہ نے اگر ایک طرف چین کے دوست ملک پاکستان سے آنکھیں پھیر کر ھندوستان سے دوستی کا ھاتھ ملایا تو دوسری طرف چین کے گرد فوجی اڈے قائم کرنے کے لئے برما کا انتخاب کیا ۔ امریکہ کی سیاست اس بات کی گواہ ہے کہ امریکہ کو جہاں جانا ہو ، وھاں پہلے خانہ جنگی کے حالات پیدا کئے جاتے ہیں اور اپنے پائیلٹ دستے کے طور پر دھشت گردوں کو بھیجا جاتا ہے جیسا کہ آپ شام ، عراق اور افغانستان میں دیکھ چکے ہیں اور پھر دھشت گردوں کی سرکوبی کے نام پہ خود گھس جاتا ہے ۔ افغانستان چین کی ایک جانب تو برما دوسری جانب واقع ہے ، افغانستان میں قدم جمانے کے بعد اب برما کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ روھنگیا ایک بہانہ ہے ، اب جیساکہ میڈیا میں آچکا ہے ، القائدہ ، طالبان اور داعش نے دنیاء بھر کے مجاھدین کو برما پہنچ کر اپنے اسلامی بھائیوں کی مدد کرنے کا کہا ہے ، وہاں دھشت گردی شروع ہوگی اور پھر اس کے خاتمے اور برما کی مدد کے لئے امریکی فوج میدان میں اترے گی اور اڈے قائم کرکے چین کو خوف زدہ کیا جائیگا تاکہ وہ امریکہ کی مسابقت سے باز رہے ۔

افغانستان مسئلہ کیا ہے ، جھگڑا کس بات پہ ہے

تحقیق و تحریر
سیدزادہ سخاوت بخاری

افغانستان کا نام سنتے ہی ذھن میں لڑائی جھگڑا ، بد امنی ، ہجرت ، ہیروئین ، کلا شنکوف اور اغواء برائے تاوان کا تصور ابھرتا ہے ، مہاجر کیمپوں میں ایک نسل بوڑھی تو دوسری جوان ہوگئی لیکن امن و سلامتی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ۔ اس اتھل پتھل نے فقط افغانیوں ہی کو برباد نہیں کیا بلکہ پاکستان ، ایران ، ھندوستان ، روس ، امریکہ ، یورپ اور خلیجی ممالک تک اس کی زد میں ہیں ۔

آئیے تاریخ اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس کا ایک طائرانہ جائزہ لیں اور سمجھیں کہ یہ سب ہے کیا :

ایک عورت اپنے بچے کے ہمراہ بازار سے گزر رہی تھی ماں آگے آگے ، بچہ پیچھے چل رہا تھا کہ زمین پہ گر پڑا ، ماں اپنے دھیان میں چلی جارہی تھی، پاس سے گزرنے والے کسی شخص نے آواز دی ، مائی آپ کا بچہ گر گیا ہے ، عورت نے بغیر پیچھے دیکھے جواب دیا ، کچھ دیکھ کر گرا ہوگا ، میرا بچہ بلا وجہ نہیں گرتا ۔ یہ مختصر سی کہانی بیان کرنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ بڑی طاقتیں ، افغانستان پہ جو گدھ کی طرح گر رہی ہیں تو ضرور کوئی فائدے کی بات ہوگی ورنہ گھاٹے کا سودا کوئی نہیں کرتا ۔ اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مفاد کیا ہو سکتا ہے تو دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں ، اولا ، افغانستان کے پہاڑوں میں چھپی معدنی دولت اور دوئم اس کے محل وقوع کے اعتبار سے اسکی سیاسی حیثیت ۔ سیاسی حیثیت اگرچہ اہم ہے لیکن سرفہرست وہ بیش بہاءمعدنی خزانے ہیں جو قدرت نے اس سرزمین کوعطاء کئے ہیں :

معدنیات :

بہ ظاھر ، دنیاء کے اس مفلس ترین ملک ، کے پاس ایک محتاط اندازے کے مطابق 30 ٹریلین ڈالرز کے معدنی وسائل موجود ہیں ۔ سب سے پہلے تقریبا 2000 برس قبل سکندر اعظم یونانی ان خزانوں کی ہوس اور کھوج میں یہاں آیا اور کان کنی شروع کرائی ، جسکے آثار آج بھی بعض علاقوں میں موجود ہیں ، اس کے بعد کئی اور سورما آتے رہے ، حتی کہ اپنے وقت کی سوپر پاور تاج برطانیہ نے بھی قسمت آزمائی کی مگر ناکام رہا ۔ موجودہ نصف صدی میں دنیاء کی دوسری سوپر پاور سابقہ سوویت یونین بھی رات کے اندھیرے میں یہاں آن ٹپکا مگر اسے بھی نامراد لوٹنا پڑا ۔ اب انکل سام ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کا بہانہ بناکر اور اپنے ہی بھیجے ہوئے مجاھد اسامہ بن لادن کی تلاش میں ، سالہا سال سے ، تورا بورا اور اسی نوع کے دیگر سنگلاخ پہاڑوں میں جوگی کی طرح گھوم رہا ہے ۔ ان پہاڑوں میں اسے اسامہ تو نہ مل سکا البتہ اس نے اپنے ایک ادارے USGS کے ذریعے ان پہاڑوں میں چھپے خزانے ضرور ڈھونڈھ لئے ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ افغانستان پر اڑنے والے سارے جہاز بمبار یا لڑاکا نہیں ہوتے بلکہ ان میں ایک اسکوارڈن صرف جیولاجیکل سروے کے لئے کام کرتا رہا ، اس تلاش میں کہ کون کونسی معدنیات کہاں کہاں اور کتنی مقدار میں موجود ہیں ، اس سروے اور اس سے قبل سوویت یونین وغیرہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں :

60 ملین ٹن کوپر ، 2.2 بلین ٹن آئرن اور (لوھا ) ، اس کے علاوہ برائیٹ ، کرومائیٹ ، کوئلہ ، سونا ، چاندی ، سکہ ، نمک ، المونیم ، گندھک ، زنک ، جیم اسٹون ، ایمیرالڈ ، لاپس ، لزولی ، سرخ گرینائٹ ، روبی ، تیل اور قدرتی گیس کے بے بہاء ذخائر موجود ہیں ۔ مختلف جیولوجیکل سروے کرنے والی امریکی ، برطانوی اور روسی کمپنیوں نے معدنیات کی مقدار اور قیمت مختلف بتائی ہے مگر حامد کرزئی کے مطابق ان کی مالیت 30 کھرب امریکی ڈالر سے کم نہیں ۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ افغان حکومت نے چین کی ایک میٹالرجیکل کمپنی سےکوپر کی کانکنی کے لئے 30 ارب امریکی ڈالر کا سمجھوتا کر رکھا ہے ، اسی طرح ھندوستان کی سرکاری اور کئی ایک نجی کمپنیاں وھاں کان کنی میں مصروف ہیں :

درج بالا اعداد و شمار اور حقائق پڑھنے کے بعد آپ کو کسی حد تک ضرور اندازہ ہوگیا ہوگا کہ امریکہ، روس ، چین اور ھندوستان کیوں افغانستان پہ جھپٹ رہے ہیں ۔ اصل لڑائی معدنیات پہ کنٹرول کی ہے ، باقی سب دکھاوا ہے ، کوئی افغانوں کو تعلیم دینے آرہا ہے تو کوئی دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اور کوئی تعمیر نوء میں حصہ لینے دوڑا چلا آرہا ہے ، ہر ایک مسیحا بنا ہوا ہے لیکن ایسا ہے نہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم نہیں ہورہی اور ہو بھی کیسے ، سب نے اپنے اپنے طالبان اور جنگی سردار پال رکھے ہیں ، یہ جو اچھے طالبان اور برے طالبان کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ، کیا آپ نے کبھی غور کیا ، ہر ملک اپنے طالبان کو اچھے طالبان Good Taliban اور دوسرے کے حمائیتیوں کو برے طالبان یعنی Bad Taliban کہتا ہے ۔ چونکہ ایک سے زیادہ ممالک ان معدنی ذخائر پہ قبضے کے خواھشمند ہیں لھذا اپنے پالتو لوگوں کے ذریعے دوسروں کو بھگانے اور نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہی سبب کہ جنگ افغانستان ختم ہونے کا نام نہیں لیتی :

سیاسی پہلو :

سیاسی پہلو کے بھی دو حصے ہیں ، ایک تو یہی کہ افغانستان پہ مکمل کنٹرول حاصل کرکے ، اس کی معدنی دولت کو لوٹا جائے ، جیسا کہ برطانیہ نے ھندوستان پہ قبضہ کرکے اسے ڈیڑھ سو سال تک لوٹا ۔ یاد رہےدنیاء کا قیمتی ترین ھیرا جو ھندوستان میں مسلمانوں کی ملکیت میں تھا ، انگریز اپنے ساتھ لے گئے اور وہ چوری کا مال اب ملکہء معظمہ کے تاج میں جگمگا رہا ہے ۔ برطانوی اپنے آپ کو مہذب قوم کہتے ہیں ، ملکہ برطانیہ اس مہذب قوم کی آئینی سربراہ ہے مگر تاج میں ھندوستان سے چوری کردہ ھیرا کوہ نور جڑ رکھا ہے , چھوڑیے آس بات کو ، یہ تو ضمنا آگئی تھی ، کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ پہلا مقصد لوٹ مار ہے اور اس کے لئے اقتدار کا حصول ضروری ہے تاکہ بلے کی طرح چوکیدار بن کر دودھ پی لیا جائے ، دوسرا سیاسی پہلو یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بیٹھ کر چین ، روس ، ایران ، پاکستان اور خلیجی ممالک کو کنٹرول کیا جا سکے یعنی ایک تیر میں دو شکار ۔ امریکہ کی اس وقت کی سیاسی حکمت عملی یہ ہے کہ چین کے ھاتھ پاوں باندھے جائیں کیونکہ وہ علاوہ دیگر باتوں کے افغانستان میں بھی گھس آیا ہے ، ادھر پاکستان اس کا پکا حلیف ہے ، اگر چین کی کسی سے لڑائی ہوئی تو پاکستان کو اس کا ساتھ دینا پڑے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ صاحب ، ھندوستان کو افغانستان میں رول ادا کرنے کا کہ رہے ہیں ، وہ پاکستان کو پیغام یہ دینا چاھتے ہیں ، کہ اگر تم چین کے ساتھ کھڑے ہوتو ٹھیک ہے ہم بھارت کو افغانستان میں اہم رول دینگے تاکہ تم اور چین دونوں یہاں قدم نہ جما سکو :

ماھرین کے مطابق ٹرمپ کی اعلان کردہ افغان پالیسی ، خطے میں امن لانے کی بجائے جنگ کا باعث بنے گی ۔ کیونکہ یہ سیاسی اقدام نہیں بلکہ کھلم کھلا بدمعاشی ہے ۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم جناب شاھد خاقان عباسی نے امریکہ سے کہا ہے کہ افغانستان کا سیاسی حل تلاش کیا جائے ، جو ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے :

(براہ کرم آگے شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد پڑھ سکیں ۔ شکریہ ۔ )

Rainy Days 

Over the years, severe rains rise in Attock.  Houses destroyed in some areas. Flood like situation in the canals and rivers. Some streets and roads also look like flooding. 

Once Attock City was known as the cleanest city in the region. Especially after rain it looked like a washed pearl. But it was before the shopping bags were introduced.