بریانی

اپنی خاص خوشبو اور ذا‏ئقے کے لیے معروف بریانی برصغیر کے خاص پکوانوں میں سے ایک ہے جو مختلف علاقوں میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔

<

p style=”text-align: right;”>بھارتی مؤرخ اور کھانے کے ماہر پشپیش پنت مانتے میں کہ انڈیا میں بریانی کو نوابی کھانے کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی خوشبو بے مثال ہے اور بریانی اپنے آپ میں ایک مکمل کھانا ہے۔
چار سو  برس قدیم انڈيا کا شہر حیدر آباد صرف اپنے چار مینار کے لیے ہی نہیں بلکہ حیدر آبادی بریانی کے لیے بھی کافی مشہور ہے۔
بریانی اب ایک مقامی پکوان ہے لیکن اس کے باوجود لوگ پوچھتے ہیں کہ ’یہ کہاں سے ہندوستان آئی اور کب آئی؟
دھیمی آنچ پر کافی دیر تک مصالحے میں لپیٹے ہوئے گوشت کو اس کے اپنے ہی رس میں پکنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس میں چاول کی تہہ ہوتی ہیں اور خوشبودار مسالے بھی ہوتے ہیں
کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ اس کا جنم ہندوستان میں ہوا۔ ان کا دعوی ہے کہ وسطی ایشیا کے پلاؤ کو یہاں کے لوگوں نے بریانی کی شکل دی۔ لیکن اس پر یقین کرنا ذرا مشکل امر ہے۔
پلاؤ اور بریانی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان کا ذائقہ بھی جدا جدا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بریانی ایران سے آئی ہے۔
بریانی نام اصل میں فارسی لفظ ’برنج بريان‘ سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب ہے بھنے ہوئے چاول۔
ایران میں بریانی کو دیگ یعنی دم کیاجاتا ہے یعنی اسے دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔
چار سو برس قدیم انڈيا کا شہر حیدر آباد صرف اپنے چارمینار کے لیے ہی نہیں بلکہ حیدر آبادی بریانی کے لیے بھی کافی مشہور ہے
دھیمی آنچ پر کافی دیر تک مصالحے میں لپیٹے ہوئے گوشت کو اس کے اپنے ہی رس میں پکنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس میں چاول کی تہہ ہوتی ہیں اور خوشبودار مسالے بھی ہوتے ہیں۔
بھارت میں اسلامی کھانوں کی ماہر سلمیٰ حسین بتاتی ہیں کہ دور حاضر کے ایران میں سڑکوں پر فروخت ہونے والی بریانی میں اب چاول کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ اب اس کی جگہ پر گوشت کے ٹکڑوں کو رومالي روٹی میں لپیٹ کر پکایا جانے لگا ہے۔
لیکن یہ ڈش دراصل ہندوستان میں پروان چڑھی جہاں اس کی رنگ برنگی اور متنوع تاریخ ہے۔

بریانی کی ڈش دراصل ہندوستان میں پروان چڑھی جہاں اس کی رنگ برنگی اور متنوع تاریخ ہے
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بریانی پہلی بار ہندوستان میں مغلوں کے ساتھ آئی۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ زائرین، فوجی خاندانوں اور بعض رہنماؤں کے ساتھ جنوبی ہندوستان آئی۔ بعد میں یہ ڈش جن مختلف مقامات پر پہنچی اسی مناسبت سے مقامی ذائقے اس میں مربوط ہوتے گئے۔
کیرالہ کو ہی لے لیجیے، یہاں مالابار یا موپلا بریانی ملتی ہے۔ کئی بار تو اس میں گوشت یا چکن کی جگہ مچھلی یا جھینگوں کا استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مصالحے تیز ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں پڑنے والے مواد سے حیدرآبادی خوشبو ضرور آتی ہے۔
انڈین ریاست مغربی بنگال میں ملنے والی بریانی، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ملنے والی بریانی کے ذائقے سے ملتی جلتی ہے۔ یہ بھی بہت مقبول ہے۔

یہ خیال غلط نہیں ہوگا کہ کولکاتہ شہر میں بریانی سمندر کے راستے سے آئی جہاں کبھی نوابوں کی حکومت ہوا کرتی تھی
یہ خیال غلط نہیں ہوگا کہ کولکاتہ شہر میں بریانی سمندر کے راستے سے آئی جہاں کبھی نوابوں کی حکومت ہوا کرتی تھی۔
وہیں بھوپال میں بریانی شاید دراني افغانوں کے ساتھ آئی، جو کبھی احمد شاہ ابدالی کی فوج کا حصہ رہے تھے۔ بھوپال کی بریانی کافی دم دار ہوتی ہے۔ اس کی انوکھی خوشبو بہت پر کشش ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ آج کل مرادآبادی بریانی اچانک انڈین دارالحکومت دہلی میں کافی فروخت ہونے لگی ہے۔
راجستھانی بریانی کی سب سے بہترین مثال دیگ ہے۔ یہ اجمیر میں خواجہ غریب نواز کی درگاہ کی زیارت کرنے والوں کے لیے خاص طور پر تیار کی جاتی ہے۔

بھوپال میں بریانی شاید دراني افغانوں کے ساتھ آئی، جو کبھی احمد شاہ ابدالی کی فوج کا حصہ رہے تھے۔ بھوپال کی بریانی کافی دم دار ہوتی ہے۔ اس کی انوکھی خوشبو بہت پر کشش ہوتی ہے
لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ انڈيا میں لوگ اب بھی بریانی کے حقیقی ذائقے سے بے خبر ہیں۔ زیادہ تر جگہوں پر ملنے والی بریانی کو صرف ’کڑھائی بریانی‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہاں لمبے چاول تو ہوتے ہیں اور زرد رنگ بھی ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی بریانی سے یہ بلکل مختلف ہے۔
بڑے ہوٹلوں یا اچھے کھانے کے ریستوران میں بھی اسے روایتی طریقے سے نہیں پکایا جاتا ہے۔
ہم کتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ ایران ہمارے ملک کے کتنے قریب ہے اور صرف فارسی زبان ہی دونوں ممالک کی مشترکہ وراثت نہیں ہے۔

بی بی سی اردو سے

روھنگیا پلان اصل کہانی کچھ اور ھے

تحقیق و تحریر

سیدزادہ سخاوت بخاری 

موجودہ میانمار اور سابقہ برما میں صدیوں سے آباد روھنگیا مسلمانوں پہ ظلم و ستم ، ان کی نسل کشی اور ھجرت کی کہانیاں آجکل دنیاء بھر کے میڈیا کا ایک اھم موضوع ہے ۔ پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں اس بربریت کے خلاف احتجاجی مظاھرے کئے جارہے ہیں اور موقع پرست تنظیموں نے چندہ بھی جمع کرنا شروع کردیا ہے ۔ بہ ظاھر ہم سب کو یہی نظر آتا ہے کہ بے یار و مدد گار مسلمانوں پہ ظلم ہورہا ہے ، ان کی مدد کی جائے ، انہیں پناہ دی جائے ، ان کے لئے آواز اٹھائی جائے وغیرہ وغیرہ ، لیکن اندر کی بات اور کہانی جسے میں نے روھنگیا پلان کا نام دیا ہے ، اکثریت کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ علامہ اقبال نے ستاروں کے بارے میں کہا تھا ،

” ھیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ، ۔ ۔ ۔ دیتے ہیں یہ بازیگر دھوکا کھلا ۔۔۔۔

یعنی آسمان پہ نظر آنیوالے ننھے منے ستارے ویسے ہیں نہیں کہ جیسے ہمیں نظر آتے ہیں ، یہ تو بازی گروں کی طرح ہمیں دھوکا دے رہے ہیں ۔

روھنگیا پلان بھی ایک بازی گری ہے ، ایک دھوکا ہے ، اس کا مقصد وہ نہیں جو دنیاء بالخصوص مسلمانوں کو نظر آرہا ہے ۔ مہاتما بدھ کی تعلیم کا اولین نقطہ امن ہے اور اسی کے حصول کی خاطر کپل وسطو کے اس شھزادے نے آسائیش و آرام کی زندگی چھوڑ کر درویشی اختیار کی تھی ، پھر ایسا کیا ہوا کہ اس کے ماننے والوں کی ایک نگری برماء میں اچانک ابال آیا اور خون کی ہولی کھیلی جانے لگی ، بے گناہ مرد و خواتین اور بچوں تک کو زندہ جلادیا گیا ، ان کی بستیوں کو نذر آتش کیا جانے لگا ، لاکھوں کی تعداد میں یہ لٹے پٹے لوگ اپنا وطن چھوڑنے پہ مجبور ہوئے ، آخر یہ سب کیوں ہورہا ہے ، کیا یہ بدھوں اور مسلمانوں کی لڑائی ہے ، کیا اس کا مقصد غیر برمیوں کو نکال باھر کرنا ہے ، کیا یہ مقامی اور غیر مقامی کی جنگ ہے ، کیا یہ کفر اور اسلام کا معرکہ ہے ، ۔ نہیں بالکل ایسا نہیں ، ان مفروضوں میں کوئی صداقت نہیں ، ان میں سے کوئی بھی اندازہ اور قیاس درست نہیں ، اصل کہانی کچھ اور ہے ، آئیے ہم آپ کو اس ۔ ۔ ۔روھنگیا پلان کے پس پردہ مقاصد سے روشناس کراتے ہیں ۔

اس پلان کو سمجھنے سے پہلے آپ کو دنیاء کے نقشے پہ نظر دوڑانی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ برما کا محل وقوع کیا ہے ، اس کے دور و نزدیک کے پڑوسی کون ہیں ، اس کی جغرافیائی اہمیت کیا ہے ۔ یہ بات جان لینے کے بعد روھنگیا پلان میں چھپے راز آپ خود بخود جان جائینگے ۔ 

عرض ہے کہ برما ، چین کا پڑوسی ملک ہے اور امریکہ بہادر چاھتا یہ ہے کہ روھنگیا پلان کے ذریعے اس ملک کو مذھبی جنگ میں دھکیل کر مسلم شدت پسندوں کے لئے میدان ہموار کیا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر ہی اس نے مسلم اقلیتی فرقے یعنی روھنگیا کو چنا ہے تاکہ ان کی مدد کے نام پہ دنیاء بھر کے شدت پسند اور دھشت گرد یہاں جمع ہوکر ، شام ، عراق اور افغانستان کی طرز پہ کاروائیاں شروع کریں تاکہ یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہو کر اسے مدد کے لئے پکارے یا امریکہ ازخود نوٹس لیکر یہاں آجائے ، بعینہی اسی طرح جیسے کہ افغانستان میں ہوا ۔ ۔ 

قارئین کرام اصل مسئلہ افغانستان یا برما کی مدد کا نہیں بلکہ اس سارے پلان سے مقصود چین کا گھیراو ہے جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ کا واحد اور مضبوط حریف بن کر دنیاء کے نقشے پہ ابھرا ہے اور اب One Belt One Road اقتصادی راھداری کے منصوبے کے ذریعے امریکی تجارتی مفادات کے لئے خطرے کا سائیرن بجا رہا ہے . یاد رہے کاشغر سے گوادر تک اقتصادی راھداری کا منصوبہ جسے ہم CPEC کے نام سے جانتے ہیں ، یہ ون بیلٹ ون روڈ کا ایک جزو ہے ۔ اگر آپ پورے منصوبے پہ نظر دوڑائیں کہ جس کی تکمیل سے چین دنیاء کی تجارت کا محور بن جائیگا تو آپ کو امریکہ کی ناراضگی اور تشویش سمجھ میں آجائیگی ۔ منصوبہ مذکور بالا یعنی OBOR (ون بیلٹ ون روڈ ) ، بری اور بحری راستوں سے ہوتا ہوا تقریبا نصف سے زیادہ دنیاء کو اپنی تجارتی لپیٹ میں لے گا ۔ اس کی زد میں آنیوالے ممالک یہ ہونگے :

چین سے شروع ہوکر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ افغانستان ، البانیہ ، آرمینیا ، آذربائی جان ، بحرین ، بنگلہ دیش ، بیلا روس ، بھوٹان ، بوسنیا ، برونائی ، بلغاریہ ، کروایشیاء ، مصر ، اسٹونیا ، ایتھوپیا ، جورجیا ، ھنگری ، انڈیا ، انڈونیشیا ، عراق ، اسرائیل، اردن ، قازقستان ، کوریا ، کویت ، کرغیزستان ، لبنان ، لیتھیونیا ، میسا ڈونیا ، ملائیشیا ، مالدیپ ، مالدووا، برما ، نیپال ، نیوزی لینڈ ، عمان ، پاکستان ، فلسطین ، فلپائن ، پولینڈ ، قطر ، رومانیہ ، سعودی عرب ، سربیا ، سنگا پور ، سلواکیا ، سلووینیا ، ساوتھ افریقہ ، سری لنکا ، شام ، تاجکستان ، تھائی لینڈ ، ترکی، ترکمانستان ، یو اے ای ، ازبکستان ، ویٹ نام اور یمن ۔

یہ عظیم الشان منصوبہ 2049 تک 8 کھرب امریکی ڈالر خرچ ہونے کے بعد جب مکمل ہوگا تو آدھے سے زیادہ دنیا چین کے تجارتی شکنجے میں جکڑ جائیگی اور اسی کو ناکام بنانے کے لئے امریکہ نے اگر ایک طرف چین کے دوست ملک پاکستان سے آنکھیں پھیر کر ھندوستان سے دوستی کا ھاتھ ملایا تو دوسری طرف چین کے گرد فوجی اڈے قائم کرنے کے لئے برما کا انتخاب کیا ۔ امریکہ کی سیاست اس بات کی گواہ ہے کہ امریکہ کو جہاں جانا ہو ، وھاں پہلے خانہ جنگی کے حالات پیدا کئے جاتے ہیں اور اپنے پائیلٹ دستے کے طور پر دھشت گردوں کو بھیجا جاتا ہے جیسا کہ آپ شام ، عراق اور افغانستان میں دیکھ چکے ہیں اور پھر دھشت گردوں کی سرکوبی کے نام پہ خود گھس جاتا ہے ۔ افغانستان چین کی ایک جانب تو برما دوسری جانب واقع ہے ، افغانستان میں قدم جمانے کے بعد اب برما کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ روھنگیا ایک بہانہ ہے ، اب جیساکہ میڈیا میں آچکا ہے ، القائدہ ، طالبان اور داعش نے دنیاء بھر کے مجاھدین کو برما پہنچ کر اپنے اسلامی بھائیوں کی مدد کرنے کا کہا ہے ، وہاں دھشت گردی شروع ہوگی اور پھر اس کے خاتمے اور برما کی مدد کے لئے امریکی فوج میدان میں اترے گی اور اڈے قائم کرکے چین کو خوف زدہ کیا جائیگا تاکہ وہ امریکہ کی مسابقت سے باز رہے ۔

افغانستان مسئلہ کیا ہے ، جھگڑا کس بات پہ ہے

تحقیق و تحریر
سیدزادہ سخاوت بخاری

افغانستان کا نام سنتے ہی ذھن میں لڑائی جھگڑا ، بد امنی ، ہجرت ، ہیروئین ، کلا شنکوف اور اغواء برائے تاوان کا تصور ابھرتا ہے ، مہاجر کیمپوں میں ایک نسل بوڑھی تو دوسری جوان ہوگئی لیکن امن و سلامتی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ۔ اس اتھل پتھل نے فقط افغانیوں ہی کو برباد نہیں کیا بلکہ پاکستان ، ایران ، ھندوستان ، روس ، امریکہ ، یورپ اور خلیجی ممالک تک اس کی زد میں ہیں ۔

آئیے تاریخ اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس کا ایک طائرانہ جائزہ لیں اور سمجھیں کہ یہ سب ہے کیا :

ایک عورت اپنے بچے کے ہمراہ بازار سے گزر رہی تھی ماں آگے آگے ، بچہ پیچھے چل رہا تھا کہ زمین پہ گر پڑا ، ماں اپنے دھیان میں چلی جارہی تھی، پاس سے گزرنے والے کسی شخص نے آواز دی ، مائی آپ کا بچہ گر گیا ہے ، عورت نے بغیر پیچھے دیکھے جواب دیا ، کچھ دیکھ کر گرا ہوگا ، میرا بچہ بلا وجہ نہیں گرتا ۔ یہ مختصر سی کہانی بیان کرنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ بڑی طاقتیں ، افغانستان پہ جو گدھ کی طرح گر رہی ہیں تو ضرور کوئی فائدے کی بات ہوگی ورنہ گھاٹے کا سودا کوئی نہیں کرتا ۔ اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مفاد کیا ہو سکتا ہے تو دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں ، اولا ، افغانستان کے پہاڑوں میں چھپی معدنی دولت اور دوئم اس کے محل وقوع کے اعتبار سے اسکی سیاسی حیثیت ۔ سیاسی حیثیت اگرچہ اہم ہے لیکن سرفہرست وہ بیش بہاءمعدنی خزانے ہیں جو قدرت نے اس سرزمین کوعطاء کئے ہیں :

معدنیات :

بہ ظاھر ، دنیاء کے اس مفلس ترین ملک ، کے پاس ایک محتاط اندازے کے مطابق 30 ٹریلین ڈالرز کے معدنی وسائل موجود ہیں ۔ سب سے پہلے تقریبا 2000 برس قبل سکندر اعظم یونانی ان خزانوں کی ہوس اور کھوج میں یہاں آیا اور کان کنی شروع کرائی ، جسکے آثار آج بھی بعض علاقوں میں موجود ہیں ، اس کے بعد کئی اور سورما آتے رہے ، حتی کہ اپنے وقت کی سوپر پاور تاج برطانیہ نے بھی قسمت آزمائی کی مگر ناکام رہا ۔ موجودہ نصف صدی میں دنیاء کی دوسری سوپر پاور سابقہ سوویت یونین بھی رات کے اندھیرے میں یہاں آن ٹپکا مگر اسے بھی نامراد لوٹنا پڑا ۔ اب انکل سام ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کا بہانہ بناکر اور اپنے ہی بھیجے ہوئے مجاھد اسامہ بن لادن کی تلاش میں ، سالہا سال سے ، تورا بورا اور اسی نوع کے دیگر سنگلاخ پہاڑوں میں جوگی کی طرح گھوم رہا ہے ۔ ان پہاڑوں میں اسے اسامہ تو نہ مل سکا البتہ اس نے اپنے ایک ادارے USGS کے ذریعے ان پہاڑوں میں چھپے خزانے ضرور ڈھونڈھ لئے ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ افغانستان پر اڑنے والے سارے جہاز بمبار یا لڑاکا نہیں ہوتے بلکہ ان میں ایک اسکوارڈن صرف جیولاجیکل سروے کے لئے کام کرتا رہا ، اس تلاش میں کہ کون کونسی معدنیات کہاں کہاں اور کتنی مقدار میں موجود ہیں ، اس سروے اور اس سے قبل سوویت یونین وغیرہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں :

60 ملین ٹن کوپر ، 2.2 بلین ٹن آئرن اور (لوھا ) ، اس کے علاوہ برائیٹ ، کرومائیٹ ، کوئلہ ، سونا ، چاندی ، سکہ ، نمک ، المونیم ، گندھک ، زنک ، جیم اسٹون ، ایمیرالڈ ، لاپس ، لزولی ، سرخ گرینائٹ ، روبی ، تیل اور قدرتی گیس کے بے بہاء ذخائر موجود ہیں ۔ مختلف جیولوجیکل سروے کرنے والی امریکی ، برطانوی اور روسی کمپنیوں نے معدنیات کی مقدار اور قیمت مختلف بتائی ہے مگر حامد کرزئی کے مطابق ان کی مالیت 30 کھرب امریکی ڈالر سے کم نہیں ۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ افغان حکومت نے چین کی ایک میٹالرجیکل کمپنی سےکوپر کی کانکنی کے لئے 30 ارب امریکی ڈالر کا سمجھوتا کر رکھا ہے ، اسی طرح ھندوستان کی سرکاری اور کئی ایک نجی کمپنیاں وھاں کان کنی میں مصروف ہیں :

درج بالا اعداد و شمار اور حقائق پڑھنے کے بعد آپ کو کسی حد تک ضرور اندازہ ہوگیا ہوگا کہ امریکہ، روس ، چین اور ھندوستان کیوں افغانستان پہ جھپٹ رہے ہیں ۔ اصل لڑائی معدنیات پہ کنٹرول کی ہے ، باقی سب دکھاوا ہے ، کوئی افغانوں کو تعلیم دینے آرہا ہے تو کوئی دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اور کوئی تعمیر نوء میں حصہ لینے دوڑا چلا آرہا ہے ، ہر ایک مسیحا بنا ہوا ہے لیکن ایسا ہے نہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم نہیں ہورہی اور ہو بھی کیسے ، سب نے اپنے اپنے طالبان اور جنگی سردار پال رکھے ہیں ، یہ جو اچھے طالبان اور برے طالبان کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ، کیا آپ نے کبھی غور کیا ، ہر ملک اپنے طالبان کو اچھے طالبان Good Taliban اور دوسرے کے حمائیتیوں کو برے طالبان یعنی Bad Taliban کہتا ہے ۔ چونکہ ایک سے زیادہ ممالک ان معدنی ذخائر پہ قبضے کے خواھشمند ہیں لھذا اپنے پالتو لوگوں کے ذریعے دوسروں کو بھگانے اور نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہی سبب کہ جنگ افغانستان ختم ہونے کا نام نہیں لیتی :

سیاسی پہلو :

سیاسی پہلو کے بھی دو حصے ہیں ، ایک تو یہی کہ افغانستان پہ مکمل کنٹرول حاصل کرکے ، اس کی معدنی دولت کو لوٹا جائے ، جیسا کہ برطانیہ نے ھندوستان پہ قبضہ کرکے اسے ڈیڑھ سو سال تک لوٹا ۔ یاد رہےدنیاء کا قیمتی ترین ھیرا جو ھندوستان میں مسلمانوں کی ملکیت میں تھا ، انگریز اپنے ساتھ لے گئے اور وہ چوری کا مال اب ملکہء معظمہ کے تاج میں جگمگا رہا ہے ۔ برطانوی اپنے آپ کو مہذب قوم کہتے ہیں ، ملکہ برطانیہ اس مہذب قوم کی آئینی سربراہ ہے مگر تاج میں ھندوستان سے چوری کردہ ھیرا کوہ نور جڑ رکھا ہے , چھوڑیے آس بات کو ، یہ تو ضمنا آگئی تھی ، کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ پہلا مقصد لوٹ مار ہے اور اس کے لئے اقتدار کا حصول ضروری ہے تاکہ بلے کی طرح چوکیدار بن کر دودھ پی لیا جائے ، دوسرا سیاسی پہلو یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بیٹھ کر چین ، روس ، ایران ، پاکستان اور خلیجی ممالک کو کنٹرول کیا جا سکے یعنی ایک تیر میں دو شکار ۔ امریکہ کی اس وقت کی سیاسی حکمت عملی یہ ہے کہ چین کے ھاتھ پاوں باندھے جائیں کیونکہ وہ علاوہ دیگر باتوں کے افغانستان میں بھی گھس آیا ہے ، ادھر پاکستان اس کا پکا حلیف ہے ، اگر چین کی کسی سے لڑائی ہوئی تو پاکستان کو اس کا ساتھ دینا پڑے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ صاحب ، ھندوستان کو افغانستان میں رول ادا کرنے کا کہ رہے ہیں ، وہ پاکستان کو پیغام یہ دینا چاھتے ہیں ، کہ اگر تم چین کے ساتھ کھڑے ہوتو ٹھیک ہے ہم بھارت کو افغانستان میں اہم رول دینگے تاکہ تم اور چین دونوں یہاں قدم نہ جما سکو :

ماھرین کے مطابق ٹرمپ کی اعلان کردہ افغان پالیسی ، خطے میں امن لانے کی بجائے جنگ کا باعث بنے گی ۔ کیونکہ یہ سیاسی اقدام نہیں بلکہ کھلم کھلا بدمعاشی ہے ۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم جناب شاھد خاقان عباسی نے امریکہ سے کہا ہے کہ افغانستان کا سیاسی حل تلاش کیا جائے ، جو ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے :

(براہ کرم آگے شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد پڑھ سکیں ۔ شکریہ ۔ )

Rainy Days 

Over the years, severe rains rise in Attock.  Houses destroyed in some areas. Flood like situation in the canals and rivers. Some streets and roads also look like flooding. 

Once Attock City was known as the cleanest city in the region. Especially after rain it looked like a washed pearl. But it was before the shopping bags were introduced. 

PM Disqualified 

Prime Minister Nawaz Sharif has been disqualified from office by the Supreme Court and will be required to step down.

The court ruled Sharif has been dishonest to parliament and to the judicial system, and is no longer deemed fit for the office of Prime Minister.

“Nawaz Sharif will accept the decision of the Supreme Court,” Sharif’s party, the PLMN said in a statement following the verdict.

“There has been an injustice against us. Nawaz Sharif will step down as premier of Pakistan despite reservations regarding the verdict.”

He is expected to vacate the Prime Minister’s residence by Friday evening.

Source: CNN

Jackals Restaurant 

At the junction of  Chhoi Road and Dr. Ghulam Jilani Burq Road South end there was a dhaba called Jackals Restaurant ( Geedar Hotel). The myth  about that dhaba is this, that one early morning some jackals were came to have breakfast from the woods of southern valley . The dhaba owner and his staff served them very well and told the story to people. Since day dhaba was being called Jackals Restaurant. It’s said that jackals were found there often after that. 

I’ve seen that dhaba and been there a couple of times but never seen jackals. 

The Storyteller 

Welcome to voiceofattock, an informal website or blog whatever you considered it. As the name shouts a typical news or media platform but it’s not actually into those dimensions completely. Voice is not always a news, it changes itself to the subject it belong,when it’s from past it’s history to future it’s hope from surrounding it’s information, education and at some point it becomes knowledge. 

And that’s the main idea for which I set it apart all. We’ll definitely go for some news, interviews etc within the theme but infect VOA would be a platform for those who seek and spread knowledge. As in my friends and family gathering I never go into debate saying ‘ Teach me or learn something ‘. Here I repeat. 

The canvas of VOA is very wide and multidimensional. I personally can not cover it all but I’ll try my best to keep the brushes till people come and pick theirs up. 

At the moment Voice of Attock is a one man show, ladies and gentlemen. I’ll search, I’ll find, I’ll make a story and then publish that’s why stories and articles may come late because I don’t believe in copy paste. Yes I’ll translate some stuff with references to its authors. 

I do hope some intellectuals will join me sooner or later. 

Akbar’s Attock

It is said that the Attock was named by Akbar The Great . Events and scenes became the reasons to him for naming the places, a beautiful scenery of a village made him saying Wah the place was named Wah. When he stayed longer than usual at the bank of river Indus the place was called Attock. And when he crossed the river safely the town on other end was said Khair Abad. 

There is another story of it too . Akbar learned a lot from his predecessor Sher Shah. Many tasks that Akbar had done were founded by Sher Shah. Sher Shah’s kingdom spread from Bihar to Punjab. On one end of it, there was a fort Ruhtas in Bihar. On the other end of it  , Shair Shah built the second fort on the land of the Ghakkars in Punjab, and named it Ruhtas again. In the same way Akbar had a city Cuttack on the Eastern edge of his kingdom.  Cuttack is the former capital and the second largest city in the eastern Indian state of Odisha. The name of the city is an anglicised form of Katak which literally means The Fort, Akbar built a fort here on the bank of Indus and named as Attock.

 Broadcasters, researchers, writer and traveler Mr. Raza Ali Abidi also mentioned in his book ‘The Grand Trunk Road’ that Akbar brought sailors from Banaras ( a city in India currently known as Varanasi) to sail in the Great Indus. To gratify them he named this place Attock Banaras.