•    

افغانستان مسئلہ کیا ہے ، جھگڑا کس بات پہ ہے

تحقیق و تحریر 
سیدزادہ سخاوت بخاری 

افغانستان کا نام سنتے ہی ذھن میں لڑائی جھگڑا ، بد امنی ، ہجرت ، ہیروئین ، کلا شنکوف اور اغواء برائے تاوان کا تصور ابھرتا ہے ، مہاجر کیمپوں میں ایک نسل بوڑھی تو دوسری جوان ہوگئی لیکن امن و سلامتی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ۔ اس اتھل پتھل نے فقط افغانیوں ہی کو برباد نہیں کیا بلکہ پاکستان ، ایران ، ھندوستان ، روس ، امریکہ ، یورپ اور خلیجی ممالک تک اس کی زد میں ہیں ۔

آئیے تاریخ اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس کا ایک طائرانہ جائزہ لیں اور سمجھیں کہ یہ سب ہے کیا :

ایک عورت اپنے بچے کے ہمراہ بازار سے گزر رہی تھی ماں آگے آگے ، بچہ پیچھے چل رہا تھا کہ زمین پہ گر پڑا ، ماں اپنے دھیان میں چلی جارہی تھی، پاس سے گزرنے والے کسی شخص نے آواز دی ، مائی آپ کا بچہ گر گیا ہے ، عورت نے بغیر پیچھے دیکھے جواب دیا ، کچھ دیکھ کر گرا ہوگا ، میرا بچہ بلا وجہ نہیں گرتا ۔ یہ مختصر سی کہانی بیان کرنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ بڑی طاقتیں ، افغانستان پہ جو گدھ کی طرح گر رہی ہیں تو ضرور کوئی فائدے کی بات ہوگی ورنہ گھاٹے کا سودا کوئی نہیں کرتا ۔ اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مفاد کیا ہو سکتا ہے تو دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں ، اولا ، افغانستان کے پہاڑوں میں چھپی معدنی دولت اور دوئم اس کے محل وقوع کے اعتبار سے اسکی سیاسی حیثیت ۔ سیاسی حیثیت اگرچہ اہم ہے لیکن سرفہرست وہ بیش بہاءمعدنی خزانے ہیں جو قدرت نے اس سرزمین کوعطاء کئے ہیں :

معدنیات :

بہ ظاھر ، دنیاء کے اس مفلس ترین ملک ، کے پاس ایک محتاط اندازے کے مطابق 30 ٹریلین ڈالرز کے معدنی وسائل موجود ہیں ۔ سب سے پہلے تقریبا 2000 برس قبل سکندر اعظم یونانی ان خزانوں کی ہوس اور کھوج میں یہاں آیا اور کان کنی شروع کرائی ، جسکے آثار آج بھی بعض علاقوں میں موجود ہیں ، اس کے بعد کئی اور سورما آتے رہے ، حتی کہ اپنے وقت کی سوپر پاور تاج برطانیہ نے بھی قسمت آزمائی کی مگر ناکام رہا ۔ موجودہ نصف صدی میں دنیاء کی دوسری سوپر پاور سابقہ سوویت یونین بھی رات کے اندھیرے میں یہاں آن ٹپکا مگر اسے بھی نامراد لوٹنا پڑا ۔ اب انکل سام ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کا بہانہ بناکر اور اپنے ہی بھیجے ہوئے مجاھد اسامہ بن لادن کی تلاش میں ، سالہا سال سے ، تورا بورا اور اسی نوع کے دیگر سنگلاخ پہاڑوں میں جوگی کی طرح گھوم رہا ہے ۔ ان پہاڑوں میں اسے اسامہ تو نہ مل سکا البتہ اس نے اپنے ایک ادارے USGS کے ذریعے ان پہاڑوں میں چھپے خزانے ضرور ڈھونڈھ لئے ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ افغانستان پر اڑنے والے سارے جہاز بمبار یا لڑاکا نہیں ہوتے بلکہ ان میں ایک اسکوارڈن صرف جیولاجیکل سروے کے لئے کام کرتا رہا ، اس تلاش میں کہ کون کونسی معدنیات کہاں کہاں اور کتنی مقدار میں موجود ہیں ، اس سروے اور اس سے قبل سوویت یونین وغیرہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں :

60 ملین ٹن کوپر ، 2.2 بلین ٹن آئرن اور (لوھا ) ، اس کے علاوہ برائیٹ ، کرومائیٹ ، کوئلہ ، سونا ، چاندی ، سکہ ، نمک ، المونیم ، گندھک ، زنک ، جیم اسٹون ، ایمیرالڈ ، لاپس ، لزولی ، سرخ گرینائٹ ، روبی ، تیل اور قدرتی گیس کے بے بہاء ذخائر موجود ہیں ۔ مختلف جیولوجیکل سروے کرنے والی امریکی ، برطانوی اور روسی کمپنیوں نے معدنیات کی مقدار اور قیمت مختلف بتائی ہے مگر حامد کرزئی کے مطابق ان کی مالیت 30 کھرب امریکی ڈالر سے کم نہیں ۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ افغان حکومت نے چین کی ایک میٹالرجیکل کمپنی سےکوپر کی کانکنی کے لئے 30 ارب امریکی ڈالر کا سمجھوتا کر رکھا ہے ، اسی طرح ھندوستان کی سرکاری اور کئی ایک نجی کمپنیاں وھاں کان کنی میں مصروف ہیں :

درج بالا اعداد و شمار اور حقائق پڑھنے کے بعد آپ کو کسی حد تک ضرور اندازہ ہوگیا ہوگا کہ امریکہ، روس ، چین اور ھندوستان کیوں افغانستان پہ جھپٹ رہے ہیں ۔ اصل لڑائی معدنیات پہ کنٹرول کی ہے ، باقی سب دکھاوا ہے ، کوئی افغانوں کو تعلیم دینے آرہا ہے تو کوئی دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اور کوئی تعمیر نوء میں حصہ لینے دوڑا چلا آرہا ہے ، ہر ایک مسیحا بنا ہوا ہے لیکن ایسا ہے نہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم نہیں ہورہی اور ہو بھی کیسے ، سب نے اپنے اپنے طالبان اور جنگی سردار پال رکھے ہیں ، یہ جو اچھے طالبان اور برے طالبان کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ، کیا آپ نے کبھی غور کیا ، ہر ملک اپنے طالبان کو اچھے طالبان Good Taliban اور دوسرے کے حمائیتیوں کو برے طالبان یعنی Bad Taliban کہتا ہے ۔ چونکہ ایک سے زیادہ ممالک ان معدنی ذخائر پہ قبضے کے خواھشمند ہیں لھذا اپنے پالتو لوگوں کے ذریعے دوسروں کو بھگانے اور نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہی سبب کہ جنگ افغانستان ختم ہونے کا نام نہیں لیتی :

سیاسی پہلو :

سیاسی پہلو کے بھی دو حصے ہیں ، ایک تو یہی کہ افغانستان پہ مکمل کنٹرول حاصل کرکے ، اس کی معدنی دولت کو لوٹا جائے ، جیسا کہ برطانیہ نے ھندوستان پہ قبضہ کرکے اسے ڈیڑھ سو سال تک لوٹا ۔ یاد رہےدنیاء کا قیمتی ترین ھیرا جو ھندوستان میں مسلمانوں کی ملکیت میں تھا ، انگریز اپنے ساتھ لے گئے اور وہ چوری کا مال اب ملکہء معظمہ کے تاج میں جگمگا رہا ہے ۔ برطانوی اپنے آپ کو مہذب قوم کہتے ہیں ، ملکہ برطانیہ اس مہذب قوم کی آئینی سربراہ ہے مگر تاج میں ھندوستان سے چوری کردہ ھیرا کوہ نور جڑ رکھا ہے , چھوڑیے آس بات کو ، یہ تو ضمنا آگئی تھی ، کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ پہلا مقصد لوٹ مار ہے اور اس کے لئے اقتدار کا حصول ضروری ہے تاکہ بلے کی طرح چوکیدار بن کر دودھ پی لیا جائے ، دوسرا سیاسی پہلو یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بیٹھ کر چین ، روس ، ایران ، پاکستان اور خلیجی ممالک کو کنٹرول کیا جا سکے یعنی ایک تیر میں دو شکار ۔ امریکہ کی اس وقت کی سیاسی حکمت عملی یہ ہے کہ چین کے ھاتھ پاوں باندھے جائیں کیونکہ وہ علاوہ دیگر باتوں کے افغانستان میں بھی گھس آیا ہے ، ادھر پاکستان اس کا پکا حلیف ہے ، اگر چین کی کسی سے لڑائی ہوئی تو پاکستان کو اس کا ساتھ دینا پڑے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ صاحب ، ھندوستان کو افغانستان میں رول ادا کرنے کا کہ رہے ہیں ، وہ پاکستان کو پیغام یہ دینا چاھتے ہیں ، کہ اگر تم چین کے ساتھ کھڑے ہوتو ٹھیک ہے ہم بھارت کو افغانستان میں اہم رول دینگے تاکہ تم اور چین دونوں یہاں قدم نہ جما سکو :

ماھرین کے مطابق ٹرمپ کی اعلان کردہ افغان پالیسی ، خطے میں امن لانے کی بجائے جنگ کا باعث بنے گی ۔ کیونکہ یہ سیاسی اقدام نہیں بلکہ کھلم کھلا بدمعاشی ہے ۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم جناب شاھد خاقان عباسی نے امریکہ سے کہا ہے کہ افغانستان کا سیاسی حل تلاش کیا جائے ، جو ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے :

(براہ کرم آگے شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد پڑھ سکیں ۔ شکریہ ۔ )

A Social Worker, Poet , Writer , Fire brand Speaker and a Friend of Friends .

About Sayedzada Sakhawat Bukhari

A Social Worker, Poet , Writer , Fire brand Speaker and a Friend of Friends .
Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

  •